اینٹی بائیٹک بائیٹک
چھہ ارب سے زائد بیکٹریا انسانی جسم میں ایک وقت میں پائے جاتے ہیں پہلا سچ یہ ہے کہ انسان ان کے بخیرکھانا بھی ہضم نہیں کر سکتا ہے دوسرا سچ یہ ہے کہ وہ زمین پر دو ارب سال سے انسان کے بغیر زندہ ہیں اسی لئے وہ خطہ ارض کے کامیاب جاندار کہلاتے ہیں نوع انسانی نے ان کے خلاف اینٹی بائٹیک کی صورت میں ایٹمی جنگ شروع کر رکھی ہے لیکن وہ یہ جنگ مکمل طور پر ہار رہی ہے جنگ کی پہلی صودت انسانی جسم میں داخل ہونے والے جراثیموں کے خلاف اینٹی بائیٹک کا استعمال ہے جس کے کثرت استعمال نے ایسے جراثیم پیدا کر دئے ہین کہ ان کے خلاف کوئی اینٹی بائیٹک کام نہیں کرتی اور ایسے جراثیموں کی تعداد بڑھ رھی ھے اس کی سب سے زیادہ وجہ اینٹی بائیٹک کا غیر ضروری استعمال ہے اس کا نتیجہ ٹی بی نمونیہ اور دوسری مہلک بیماریون کا دوبارہ ظہور ہے اور سرجری کے بعد ناقابل قابو سوزش ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ یقینی موت ھے
دوسری صورت پولٹری کی صنعت میں اینٹی بائیٹک کا استعمال ہے سویڈن ناروے نے پولٹری مین مرغیوں کی بڑھوتی کے لئے اینٹی بائیٹک کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے دوسرے ملکوں کو ان کی پیروی کرنی چاھئے کیونکہ کچہ ملکوں کے پابندی لگانے سے مسئثلہ حل نہیں ھو گا جراثیموں کے لئے کوئی سرحد نہیں
پولٹری میں اینٹی بائیٹک کے استعمال کی کہانی انیس سو پچاس سے شروع ھوتی ھے جب امریکہ مین پہلی مرتبہ اسے جانوروں مین استعمال کروایا گیا اینٹی بائیٹک کے استعمال نے صرف انسانوں کو بیماریوں سے نہیں بچایا اس نے زراعت کی ترقی میں بھی ایک اھم کردار ادا کیا ھے بڑے بڑے فارم بننے کے عمل میں اینٹی بائیٹک نے بھی اپنا کردار ادا کیا ھے انہوں نے نہ صرف جانوروں کی بیماری ختم کی بلکہ بیمارھونے سے بچایا نتیجہ یہ نکلا کہ جانورون کی تعداد بہت بڑھ گئی اینٹی بائیٹک نے جانوروں کو تیزی سے اپنا قد اور وزن بڑھانے میں مدد دی اس طرح اینٹی بائیٹک نےگروتھ پروموٹر کا کام کیا یہی بات اس کے زیادہ استعمال کی وجہ بن گئی یہ معلوم ہوا کہ اینٹی بائیٹک کے استعمال سےپولٹری کی شرع ترقی پانچ فی صد سالانہ سے بڑھی اس بات اور دوسرے طریقوں نےصرف چار سے سات یفتےمیں مرغون کو جوان کر دیا انیس سو ننانوے میں تمام چکن کو اینٹی بائیٹک دی جا رھی تھی انیس سو سڑسٹھ میں ۲۴۰ ٹن انسانوں اور ۱۶۸ ٹن اینٹی بائیٹک جانوروں کو دی جا رہی تھی لیکن ۱۹۹۸ میں جانوروں مہں استعمال بڑھ کر۹۲۱ ٹن اور انسانوں میں۵۶۰ ٹن ھو گیایعنی جانوروں میں اینٹی بائیٹک کا استعمال انسانوں کی نسبت بڑھ گیا محتاط اندازے کے مطابق دو سو نو ٹن اینٹی بائیٹک صرف گروتھ پروموٹر کے طور پر استعمال ھوئی
اتنے زیادہ اینٹی بائیٹک کا استعمال کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ایسے جاثیم پیدا ہو گئے ہیں جن کہ خلاف کوئی اینٹی بائیٹک اثر نہیں رکھتی انیس سو ننانوے میں ڈنمارک میں سور کھانے سے سات بیمار ھوئے ایک مر گیا پتہ یہ چلا کہ وہ اس جاثیم سے مرا ہے جس پر اینٹی بائیٹک کوئی اثر نہیں کرتی
ڈنمارک کی لیبارٹری نے یہ ثابت کیا کہ جو اینٹی بائیٹک جانوروں می
استعمال ہوئی اسی کے خلاف انسانوں میں معدافت پیدا ھوئی اس لئےیورپین ممالک نے بھت سی اینٹی بائیٹک کے جانوروں میں استعمال پر پابندی لگا دی ھے لیکن کچھ سائنسدان یہ کہ رھے ھیں کہ یہ
غلط طریقہ ھے اس طرح تو کوئی بھی اینٹی بائیٹک جانوروں میں استعمال نہیں کر سکتے بہت سی اینٹی بائیٹک کا استعمال انسانون میں بند ھے لیکن جانوروں میں استعمال کی جا رھی ھیں